عمران خان ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑ کر گئے:مفتاح اسماعیل

پی این این نیوز: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان کی حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑ کر گئے تھے، اللہ کی مہربانی سے پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بجٹ خسارہ کیا، عمران خان نے 4 بڑے بجٹ خسارے کیے۔
سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں صرف پونے 4 سال کے قلیل عرصے کے دوران پاکستان کے مجموعی قرض میں 80 فیصد کا اضافہ کردیا، جب ان کی حکومت آئی تھی تو 25 ہزار کا قرض تھا اور اب ان کی حکومت گئی تو پاکستان کا قرضہ 45 ہزار ارب ہو گیا تھا۔ جب آپ اتنے قرض لیں گے تو کس طرح سے خود مختاری کی بات کرسکتے ہیں، اصل خودمختاری تو تب ہوگی جب ملک کا بجٹ خسارہ ختم ہوگا، ہمیں مزید قرض نہیں لینا پڑے گا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم امیر لوگوں پر مزید ٹیکس لگائیں گے، جن کی آمدنی 15 کروڑ روپے ہے ان پر مزید ایک فیصد، جن کی آمدنی 20 کروڑ سے زیادہ ہے ان پر 2 فیصد، جن کی آمدنی 25 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان پر 3 فیصد اور جن کی آمدنی 30 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان پر 4 فیصد سے زیادہ مزید ٹیکس عائد کریں گے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جو اس قابل ہیں کہ مزید ٹیکس دے سکتے ہیں ان پر نئے ٹیکس عائد کررہے ہیں،جو سپر ٹیکس لگائیں ہیں ان کو تفصیلات کل بتاؤں گا، سب سے پہلے شوگر پر ٹیکس لگایا ہے جس کی وزیراعظم کی کمپنی ہے جب کہ نئے ٹیکس سے میری اپنی کمپنی کا بھی کم از کم 20 سے 25 کروڑ روپے کا ٹیکس بڑھ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، ہم نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، عمران خان نے تحریک انصاف کے دوران پیٹرول پر سبسڈی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹور پر راشن کی تمام اشیا سستے داموں فراہم کریں گے، آٹا، چینی، گھی پر لوگوں کو ریلیف فراہم کریں گے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے دور میں چینی کی قیمت کم ہوئی، عمران خان کے دور میں چینی کی قیمت میں کیوں کمی نہیں ہوئی، عمران خان بتائیں کہ ان کے دور میں چینی کی قیمت میں کیوں اضافہ ہوا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے پاگئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں