زلزلہ زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات، خیموں کی ضرورت ہے، افغان قونصل جنرل

پی این این نیوز:پشاور میں تعینات افغانستان کے قونصل جنرل حافظ محب اللہ نے ہمسایہ ممالک سے زلزلہ زدہ علاقوں میں امداد بھیجنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور خیموں کی اشد ضرورت ہے۔

افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ نے افغانستان میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے تین صوبوں میں زلزلے سے کئی گاؤں ملیا میٹ ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زلزلے میں سیکڑوں افراد مرد، خواتین اور بچے جاں بحق ہوچکے ہیں، کئی افراد زخمی ہیں ان کے علاج معالجے کی ضروت ہے اور ان علاقوں کے زیادہ تر لوگ غریب ہیں۔
افغان قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور خصوصاً کور کمانڈر پشاور اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ رابطے میں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں ادویات، خیموں اور خوراک کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک کو چاہیے کہ ڈاکٹرز اور انجینئرز بھیجے تاکہ وہ خود نقصانات کا جائزہ لے سکیں۔
حافظ محب اللہ نے کہا کہ نقصانات کے مکمل اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے لیکن ہزاروں کی تعداد میں گھروں کو نقصانات پہنچا ہے اور ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہیں۔
امداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ہمارے قونصل خانے ہیں اور سفارتخانہ بھی ہے قائم ہے جہاں امداد پہنچایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت نے راستوں کا تعین کر دیا ہے اور وہی سے امداد پہنچائیں۔
افغان قونصل جنرل نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں کہ پاکستان کی حکومت ہر قسم امداد کرے گی۔
پاکستان کی جانب سے افغان زلزلہ متاثرین کی ممکنہ پاکستان آمد کے پیش نظر تورخم بارڈر پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں زلزلے کے دوران زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے پاکستانی سرحد پر ایمبولینسز موجود ہیں، انگور اڈا اور غلام خان پر بھی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمبولینسز میں زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے افغان حکام کو امدادی سامان سے بھرے ٹرک حوالے کردیے گئے۔

صوبائی وزیر تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان نے پاک-افغان سرحد پر امدادی سامان افغان حکام کے حوالے کیا، جس میں خیمے، باورچی خانے کا سامان اور بستروں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزید طبی امداد اور ٹیموں کی تشکیل اور روانگی کو آج حتمی شکل دی جارہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ افغان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کسی بھی ضرورت کے پیش نظر مکمل تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر پیدل مسافروں کے آنے اور زخمیوں کو ضلعی ہسپتال منتقل کرنے کے لیے 6 ایمبولینسز بھی موقع پر موجود ہیں۔
تیمور جھگڑا نے کہا کہ افغان بھائیوں کو غم کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان اور خیبر پختونخوا اپنے پڑوسی ہونے کا حق ادا کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب افغانستان کے جنوب مشرقی شہر خوست کے قریب آنے والے بدترین زلزلے سے ایک ہزار افراد جاں بحق اور 1500 زخمی ہوگئے تھے جن میں سے زیادہ تر کی حال تشویش ناک بتائی جارہی تھی۔
افغان میڈیا پر چلنے والی تصاویر میں گھروں کو ملبے کا ڈھیر اور لاشوں کو کمبل میں لپٹے زمین پر رکھا دیکھا جا سکتا ہے جہاں یہ افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آنے والا سب سے خطرناک زلزلہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں