ایم پی اے نذیر چوہان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج

لاہور : پاکستان تحریکِ انصاف کے گرفتار ایم پی اے نذیر چوہان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا۔مقدمے میں کارِ سرکار میں مداخلت، جان سے مارنے کی دھمکیوں سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پی این این کے مطابق ایم پی اے نذیر چوہان کے خلاف تھانہ گرین ٹاؤن میں بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔مقدمہ ایس ایچ او گرین ٹاؤن صغیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔مقدمے میں کارِ سرکار میں مداخلت، جان سے مارنے کی دھمکیوں سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کے دن نذیر چوہان اپنے کو آرڈینیٹر اور 25 نامعلوم افراد کے ساتھ پولنگ اسٹیشن آئے۔متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم پی اے نذیر چوہان نے ایس ایچ او سے بد تمیزی کی، انہوں نے پولنگ اسٹیشن کے اندر زبردستی جانے کی کوشش بھی کی۔ ایف آئی آر کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس کے روکنے پر نذیر چوہان نے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

اس قبل گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پی ٹی ائی کے رکن صوبائی اسمبلی نذیر چوہان کو ضمانت پر رہائی ملنے کے بعد مقدمہ درج کر کے دوبارہ گرفتار کیا تھا ۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی مدعیت میں نذیر چوہان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جس میں 2 افراد جاوید بٹ اور وسیم راجہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق نذیر چوہان نے سوشل میڈیا پر شہزاد اکبر کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی اور مدعی کے مذہبی عقائد کو نشانہ بنایا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں