طالبان سےکوئی سروکارنہیں، صرف افغانستان میں امن چاہتےہیں: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے پاک افغان یوتھ فورم کے اراکین سے ملاقات کے بعد ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن کی اشد ضرورت ہے، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خانہ جنگی کے اثرات پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ظاہر ہوں گے۔ہماری پالیسی ہے کہ اب افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، حال ہی میں افغانستان کا دورہ کیا، صدر اشرف غنی سے اچھے تعلقات ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کے حوالے سے خطے کا کوئی اور ملک پاکستان کی کوششوں کی برابری کا دعوے دار نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کی تائید امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی، بدقسمتی سے افغانستان میں غلط تاثر ہے کہ پاکستان کو عسکری ادارے کنٹرول کرتے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ سراسر بھارت کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈا ہے، میرا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی طریقے سے ہے، حکومت کو اس مؤقف پر عسکری اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ افغان رہنماؤں کا پاکستان کو افغان بحران کا ذمے دار ٹھہرانا انتہائی افسوس ناک ہے، میری حکومت کی خارجہ پالیسی گزشتہ 25 سال سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ رہی ہے۔پاکستان دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ افغانستان میں امن چاہتا ہے، افغانستان میں امن سے پاکستان کو وسطِ ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ لانگ ٹرم اور نیچرل ریلیشن شپ ہی افغانستان اور پاکستان کیلئے لازمی ہے، پاکستان نے پہلے امریکا اور پھر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے سخت جہدوجہد کی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان جو کر رہے ہیں اس کا ہم سے کیا تعلق ؟ یہ طالبان سے پوچھنا چاہیے اور اگرآپ سمجھتے ہیں کہ طالبان کو حکومت میں نہیں ہونا چاہیے تو امریکی حمایت سے جنگ جاری رکھیں۔ طالبان سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، ہم افغانستان میں صرف امن چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں مہاجرین آباد ہیں ہم کیسے چیک کرسکتے ہیں کہ اِن میں طالبان کون ہیں؟ ڈیورنڈ لائن کو خیالی سرحد تصور کیا جاتا تھا لیکن پھر پاکستان نے سرحد پر باڑ لگائی اور سرحد کو محفوظ بنایا۔وزیرا عظم نے کہا کہ افغانستان میں ایک گروہ کی اجارہ داری ممکن نہیں اور اگر ایسا ہوا تو نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا۔

بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے کشمیریوں کا حق چھینا، جس کے بعد پاکستان نے بھارت سے تمام تعلقات منقطع کر لیئے۔5 اگست 2019ء سے بھارت نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے نئے باب کا آغاز کیا، پاکستان 1948ء سے کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر آواز بلند کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت تبدیل کی، 5 اگست کے اقدامات واپس لینے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے تک بھارت سے بات نہیں ہو سکتی۔

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ بھارت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے مگر بھارت امن نہیں چاہتا، بھارت ا س وقت آر ایس ایس کے نظریئے کے زیرِ تسلط ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں، دیگر مذاہب اور اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے، یہی محرکات بھارت کے ساتھ امن میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں