استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے47 برس بیت گئے

لاہور: کلاسیکی موسیقی میں ’سند‘ کا درجہ رکھنے والے شام چوراسی گھرانے کے استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے47 برس بیت گئےمگر ان کے گائے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور دیگر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بھارتی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے استاد امانت علی خان نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی اور اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کر گانا شروع کیا۔ قیام پاکستان سے قبل انہوں نے اپنے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔ خداد صلاحیت اور والد کی تربیت کے باعث کم عمری ہی میں وہ دادرا، ٹھمری اورغزل نہایت مہارت سے گانے لگے تھے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ غزل کو کلاسیکی موسیقی سے ہم آہنگ کرنے میں شام چوراسی گھرانے کا نہایت اہم ترین کردار ہے۔

چاند میری زمیں پھول میرا وطن اور اے وطن پیارے وطن جیسے ملی نغموں نے ان کی شہرت کو چار چاند لگائے لیکن ابن انشا کی غزل ’ انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘ جب انہوں نے گائی تو جو شہرت انہیں ملی اس کی دوسری مثال ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔

قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہوئے۔ استاد امانت علی خان کا انتقال 52 سال کی عمرمیں17 ستمبر 1974 کو ہوا۔ وہ لاہور کے مومن پورہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں