حکومت رہی تو سرکاری ملازمین کی تنخواہ کیلئے بھی پیسے نہیں ہوں گے: شہباز شریف

لاہور: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت پانچ سال رہی تو پاکستان میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ دینے کے لئے بھی پیسے نہیں ہوں گے۔

مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ حکومت رہی تو آئندہ برس قرض پر سود کی ادائیگی کے بعد دفاع، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پینشن اورحکومت چلانے کے لئے بھی قرض لینا پڑے گا۔ان کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تاریخی اضافہ کے نتیجے میں ڈالرز میں قرض لینا پڑے گا۔ ڈالرز میں قرض نہ لیا تو پھر غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گریں جس سے قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت مسلسل جھوٹ بول رہی ہے کہ ماضی کے قرض کی ادائیگی کے لئے قرض لے رہی ہے، معاشی ماہرین اس جھوٹ کا پردہ چاک کرچکے ہیں۔ حقائق اور دستاویزات پی ٹی آئی حکومت کے اس جھوٹ کی نفی کررہے ہیں۔ یہ سب قرض قومی معیشت کی تباہی، غلط فیصلوں اور معاشی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ، قومی آمدن میں کمی، معاشی جمود، شرح سود میں اضافے جیسی غلط معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں قومی معیشت کو ”قرض پر چلنی والی اکانومی‘ ‘ بنادیا گیا ہے۔ملک پر قرض کا بوجھ 55.5 ٹریلین روپے سے بڑھ جانا ثبوت ہے کہ معیشت نہیں چل رہی، حکومت فیل ہوچکی ہے۔

اپوزیشن لیڈ ر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے موجودہ معاہدہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد میں بارود بھرنے کے مترادف ہے، ایسی شرائط ایسی مانیں گئیں جو پہلے کبھی نہیں مانی گئیں۔موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی پارلیمنٹ سے بل منظور کرانے کی شرط منظور کرکے ملکی مفاد پر گہری ضرب لگائی ہے۔آئی ایم ایف کی یہ شرط پارلیمان کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش ہے۔ سٹیٹ بنک ایکٹ، سپلمنٹری ٹیکس لاز بل اسی شرط کا حصہ ہے۔حکومت کی بندوق پارلیمنٹ کی کنپٹی پر رکھ کر پاکستان کے عوام کے مفاد کے خلاف قانون سازی کرائی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں