ہر صدی میں بحران آتا ہے ،اس صدی کا بحران عمران خان ہے: بلاول بھٹو

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہر صدی میں بحران آتا ہے اور اس صدی کا بحران عمران خان ہے۔
قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کنفیویژن معیشت کی موت ہوتا ہے، جب آپ آئی ایم ایف کے پاس گئے تو آپ کمزور تھے،اس لیے کمزور ڈیل کی، آئی ایم ایف ڈیل کا بوجھ اب ملک کے غریب عوام اٹھائیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 2019 میں جب قومی اسلمبلی میں ہی قوائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نے قومی معاشی مذاکرے کی بات کی تو عمران خان نے انکار کردیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان اپوزیشن کے موقف کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں استعمال کر سکتے تھے، جب وہ آئی ایم سے بات کرتے تو وہ پوری پاکستان کی بات ہوتی، آپ کی ضد اور انا کی وجہ سے ایسے فیصلے لیے گئے ہیں جو پاکستان کی خودمختاری کا سودا تھا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایم ایف کے ساتھ آپ نے نیا بجٹ پیش کیا، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے برے معاشی اعشاریے نہیں دیکھے تھے، پاکستان کی شرح نمو کو تاریخی منفی کردی گئی، ایسا تو سقوط ڈھاکا کے وقت بھی نہیں ہوا تھا۔ مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کا مطلب مہنگائی، بیروزگاری اور غربت ہے، بجٹ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ معاشی ترقی کا سفر شروع ہورہا ہے،بجٹ میں زیرو ٹیکس بجٹ کا دعویٰ کیا گیا لیکن منی بجٹ میں ٹیکسز کا سونامی لایا جارہا ہے۔ عمران خان مزید غربت اور مہنگائی کا بندوبست کررہے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیر اعظم انتخابی مہم میں جو باتیں کرتے تھے ہم سمجھے وہ کامیاب ہوکر سائیکل پر دفتر آئیں گے، وہ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاوس جانے کے لئے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں، وزیراعظم خود تو جہاز کا سفر کرتے ہیں عوام کو سائیکل پر چڑھادیا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ ہم نے عوام دشمنی دیکھی، یہ تو ملک دشمنی ہے، یہ تو سلائی مشین پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں، سلائی مشین پر ٹیکس پر نہیں بولوں گا، آپ سمجھ گئے ہوں گے، آپ نے عام آدمی کی زندگی مشکل میں ڈال دی، مہنگائی اور بے روزگاری کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسز سے مزید مہنگائی آئے گی، ایسے فیصلے عوامی نمائندے نہیں کرسکتے، جو کسی اور کی وجہ سے حکومت بنائیں ان کو عوام کی پریشانی کی پرواہ نہیں ہوتی، اس ظلم کا جواب حکومتی ارکان اور اتحادی عوام کو نہیں دے سکیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں تھوڑا ٹریلر دکھایا ہے، عوام آپ کے ساتھ جو سلوک کرے گی جلد اپ کو اس کا پتہ چل جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر قومی سانحے میں گم ہوجاتی ہے، مری اور بلوچستان میں سانحات کے دوران حکومت غائب تھی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت سلائی مشین پر بھی ٹیکس لگارہی ہے، سلائی مشین پر زیادہ نہیں بولوں گا،اس کی وجہ سب کو معلوم ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہباز شریف مفت لیپ ٹاپ بانٹتے تھے، موجودہ حکومت ٹیکس لگارہی ہے، موبائل، انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ کے ذریعے نوجوان پیسے کمارہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ 2018 سے اب تک اشیائے خورونوش کی قیمت میں 58 فیصد اضافہ ہوا، آپ نے یوریا کا بحران پیدا کر دیا، آپ پولٹری، انڈوں اور لائیو اسٹاک پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں، خام مال پر ٹیکس، ادویات مزید مہنگی کرنے جا رہے ہیں، بیکری کا سامان اور بچوں کے دودھ پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگا دیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نے کہا کہ ہر صدی میں ایک بحران آتا ہے، ہماری صدی میں کورونا کا بحران آیا ہے، میں معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہر صدی میں ایک بحران آتا ہے اور ہمارے بحران کا نام عمران خان ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے بچے بچے کو پتہ ہے کہ مہنگائی ہے اور تاریخی مہنگائی ہے اور اس کا ذمہ دار عمران خان نیازی ہے۔ عوام کو معلوم ہے کہ ان کی جیب ہر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں